خطبات

خطبہ (۱۹۳)

(۱٩٣) وَ مِنْ خُطْبَةٍ لَّهٗ عَلَیْهِ السَّلَامُ

خطبہ (۱۹۳)

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَظْهَرَ مِنْ اٰثَارِ سُلْطَانِهٖ، وَ جَلَالِ كِبْرِیَآئِهٖ، مَا حَیَّرَ مُقَلَ الْعُیوْنِ مِنْ عَجَآئِبِ قُدْرَتِهٖ، وَ رَدَعَ خَطَرَاتِ هَمَاهِمِ النُّفُوْسِ عَنْ عِرْفَانِ كُنْهِ صِفَتِهٖ.

تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنی فرما نروائی و جلالِ کبریائی کے آثار کو نمایاں کر کے اپنی قدرت کی عجیب و غریب نقش آرائیوں سے آنکھ کی پتلیوں کو محو حیرت کر دیا ہے اور انسانی واہموں کو اپنی صفتوں کی تہ تک پہنچنے سے روک دیا ہے۔

وَ اَشْهَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ، شَهَادَةَ اِیْمَانٍ وَّ اِیْقَانٍ، وَ اِخْلَاصٍ وَّ اِذْعَانٍ. وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ، اَرْسَلَهٗ وَ اَعْلَامُ الْهُدٰی دَارِسَةٌ، وَ مَنَاهِجُ الدِّیْنِ طَامِسَةٌ، فَصَدَعَ بِالْحَقِّ، وَ نَصَحَ لِلْخَلْقِ، وَ هَدٰۤی اِلَی الرُّشْدِ، وَ اَمَرَ بِالْقَصْدِ، صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَ اٰلِهٖ.

میں اقرار کرتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، ایسا اقرار جو سراپا ایمان، یقین، اخلاص اور فرمانبرداری ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندہ و رسول ہیں، جنہیں اس وقت رسول بنا کر بھیجا کہ جب ہدایت کے نشان مٹ چکے تھے اور دین کی راہیں اُجڑ چکی تھیں۔آپؐ نے حق کو آشکارا کیا، خلق خدا کو نصیحت کی، ہدایت کی جانب رہنمائی فرمائی اور (افراط و تفریط کی سمتوں سے بچ کر) درمیانی راہ پر چلنے کا حکم دیا۔ خدا ان پر اور ان کے اہل بیتؑ پر رحمت نازل کرے۔

وَ اعْلَمُوْا عِبَادَ اللهِ! اَنَّهُ لَمْ یَخْلُقْكُمْ عَبَثًا، وَ لَمْ یُرْسِلْكُمْ هَمَلًا، عَلِمَ مَبْلَغَ نِعَمِهٖ عَلَیْكُمْ، وَ اَحَصٰۤی اِحْسَانَهٗۤ اِلَیْكُمْ، فَاسْتَفْتِحُوْهُ وَ اسْتَنْجِحُوْهُ، وَ اطْلُبُوْۤا اِلَیْهِ وَ اسْتَمْنِحُوْهُ، فَمَا قَطَعَكُمْ عَنْهُ حِجَابٌ،وَ لَاۤ اُغْلِقَ عَنْكُمْ دُوْنَهٗ بَابٌ، وَ اِنَّهٗ لَبِكُلِّ مَكَانٍ، وَ فِیْ كُلِّ حِیْنٍ وَّ اَوَانٍ، وَ مَعَ كُلِّ اِنْسٍ وَّ جَانٍّ، لَا یَثْلِمُهُ الْعَطَآءُ، وَ لَا یَنْقُصُهُ الْحِبَآءُ، وَ لَا یَسْتَنْفِدُهٗ سَآئِلٌ، وَ لَا یَسْتَقْصِیْهِ نَآئِلٌ، وَ لَا یَلْوِیْهِ شَخْصٌ عَنْ شَخْصٍ، وَ لَا یُلْهِیْهِ صَوْتٌ عَنْ صَوْتٍ، وَ لَا تَحْجُزُهٗ هِبَهٌ عَنْ سَلْبٍ، وَ لَا یَشْغَلُهٗ غَضَبٌ عَنْ رَّحْمَةٍ، وَ لَا تُوْلِهُهٗ رَحْمَةٌ عَنْ عِقَابٍ، وَ لَا یُجِنُّهُ الْبُطُوْنُ عَنِ الظُّهُوْرِ، وَ لَا یَقْطَعُهُ الظُّهُوْرُ عَنِ الْبُطُوْنِ

اے خدا کے بندو! اس بات کو جانے رہو کہ اس نے تم کو بیکار پیدا نہیں کیا اور نہ یونہی کھلے بندوں چھوڑ دیا ہے۔ جو نعمتیں اس نے تمہیں دی ہیں ان کی مقدار سے آگاہ اور جو احسانات تم پر کئے ہیں ان کا شمار جانتا ہے۔ اس سے فتح و کامرانی اور حاجت روائی چاہو، اس کے سامنے دست ِطلب پھیلاؤ، اس سے بخشش و عطا کی بھیک مانگو۔ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہے اور نہ تمہارے لئے اس کا دروازہ بند ہے۔ وہ ہر جگہ اور ہر ساعت و ہر آن اور ہر جن و انسان کے ساتھ موجود ہے۔ نہ جود و سخا سے اس میں کوئی رخنہ پڑتا ہے نہ داد و دہش سے اس کے ہاں کمی ہوتی ہے، نہ مانگنے والے اس کے خزانوں کو ختم کر سکتے ہیں، نہ بخشش و فیضان اس کی نعمتوں کو انتہا تک پہنچا سکتا ہے، نہ ایک طرف التفات دوسروں سے اس کی توجہ کو موڑ سکتا ہے اور نہ ایک آواز میں محویت دوسری آواز سے اسے بے خبر بناتی ہے، نہ اسے (بیک وقت) ایک نعمت کا دینا دوسری نعمت کے چھین لینے سے مانع ہوتا ہے اور نہ غضب (کے شرارے)رحمت (کے فیضان) سے اُسے روکتے ہیں اور نہ لطف و کرم اسے تنبیہ و عقاب سے غافل کرتا ہے۔اس کی ذات کی پوشیدگی اس کے آثار کی جلوہ پاشیوں پر نقاب نہیں ڈالتی اور نہ آثار کی جلوہ طرازیاں اس کی ذات سے پوشیدگی کو الگ کر سکتی ہیں۔

قَرُبَ فَنَاٰی، وَ عَلَا فَدَنَا، وَ ظَهَرَ فَبَطَنَ، وَ بَطَنَ فَعَلَنَ، وَ دَانَ وَ لَمْ یُدَنْ، لَمْ یَذْرَاِ الْخَلْقَ بِاحْتِیَالٍ، وَ لَا اسْتَعَانَ بِهِمْ لِكَلَالٍ.

وہ قریب پھر بھی دور ہے اور بلند مگر نزدیک ہے، وہ ظاہر مگر اسی کے ساتھ باطن، وہ پوشیدہ مگر آشکارا ہے۔وہ جزا دیتا ہے مگر اسے جزا نہیں دی جا سکتی، اس نے خلقت کائنات کو سوچ سوچ کر ایجاد نہیں کیا اور نہ تکان کی وجہ سے ان سے مدد لینے کا محتاج ہے۔

اُوْصِیْكُمْ عِبَادَ اللهِ بِتَقْوَی اللهِ، فَاِنَّهَا الزِّمَامُ وَ الْقِوَامُ، فَتَمَسَّكُوْا بِوَثَآئِقِهَا، وَ اعْتَصِمُوْا بِحَقَآئِقِهَا، تَؤُلْ بِكُمْ اِلٰۤی اَكْنَانِ الدَّعَةِ، وَ اَوْطَانِ السَّعَةِ، وَ مَعَاقِلِ الْحِرْزِ، وَ مَنَازِلِ الْعِزِّ فِیْ ﴿یَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ۝﴾، وَ تُظْلِمُ لَهُ الْاَقْطَارُ، وَ تُعَطَّلُ فِیْهِ صُرُوْمُ الْعِشَارِ، وَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ، فَتَزْهَقُ كُلُّ مُهْجَةٍ، وَ تَبْكَمُ كُلُّ لَهْجَةٍ، وَ تَدُكُّ الشُّمُّ الشَّوَامِخُ وَ الصُّمُّ الرَّوَاسِخُ، فَیَصِیْرُ صَلْدُهَا سَرَابًا رَّقْرَقًا، وَ مَعْهَدُهَا قَاعًا سَمْلَقًا، فَلَا شَفِیْعٌ یَشَفَعُ، وَ لَا حَمِیْمٌ یَدْفَعُ وَ لَا مَعْذِرَةٌ تَنْفَعُ.

اے اللہ کے بندو! میں تمہیں خوفِ خدا کی نصیحت کرتا ہوں، کیونکہ یہ (سعادت کی) باگ ڈور اور (دین کا) مضبوط سہارا ہے۔ اس کے بندھنوں سے وابستہ رہو اور اس کی حقیقتوں کو مضبوطی سے پکڑ لو کہ یہ تمہیں آسائش کی جگہوں، آسودگی کے گھروں، حفاظت کے قلعوں اور عزت کی منزلوں میں پہنچائے گا، جس دن کہ آنکھیں (خوف کی وجہ سے) پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہو گا، دس دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بیکار کر دی جائیں گی اور صور پھونکا جائے گا تو ہر جان بدن سے نکل جائے گی، زبانیں گونگی ہو جائیں گی اور بلند پہاڑ اور مضبوط چٹانیں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی اور سخت پتھر (آپس میں ٹکرا ٹکرا کر) چمکتے ہوئے سراب کی طرح ہو جائیں گے اور جہاں آبادیاں (اور فلک بوس عمارتیں) تھیں وه جگہیں ہموار میدان کی صورت میں ہو جائیں گی۔ (اس موقع پر) نہ کوئی سفارش کرنے والا ہو گا جو سفارش کرے، نہ کوئی عزیز ہو گا جو (اس عذاب کی) روک تھام کرے، نہ عذر و معذرت پیش کی جا سکے گی کہ کچھ فائدہ بخشے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی دیکھیں
Close
Back to top button